بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || تقریباً دو دہائیوں تک، شمالی عراق میں مسلح علیحدگی پسند مراکز کو بیرونی قوتوں کے ہاتھ میں ایران کی مغربی سرحدوں کے خلاف ایک کھیل کے پتے کے مترادف، برقرار رکھا گیا تھا۔ علاقائی تنازعات کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورت حال نے ایران کی مسلح افواج کو ایک غیر معمولی موقع فراہم کیا کہ اس بار میدانی طاقت کے سہارے اس دیرینہ مسئلے کو حل کر دیں، اور ساتھ ہی پڑوس میں امریکی فوجی اڈوں کو بھی چیلنج کریں۔
مخالف گروہوں کی مہم کا خاتمہ؛ بیرونی منصوبے سے میدانی تباہی تک
وسیع پیمانے پر جھڑپوں کے آغاز کے ساتھ، تہران نے عراقی کردستان کے علاقائی حکام کو خبردار کیا کہ ایران کی سرحدوں کے خلاف کوئی بھی علیحدگی پسندانہ سرگرمی وسیع ردعمل کا باعث بنے گی۔
یہ انتباہ، جو 'کوملہ' جیسے ٹولوں کے ٹھکانوں پر میزائل-ڈرون حملوں کی لہروں پر منتج ہؤا، تیزی سے ایک جاری فوجی مہم میں بدل گیا۔ اس حد تک کہ گذشتہ مہینوں کے دوران سلیمانیہ اور اربیل صوبوں میں ان ٹولوں کے اڈوں پر متعدد حملے کئے گئے۔
دباؤ کی شدت اور علیحدگی پسند گروہوں کا خاتمہ
ہر طرف سے فوجی دباؤ اس حد تک پہنچ گیا کہ یہ مسلح ٹولے، جو قبل ازیں ایران کے خلاف امریکی دباؤ کے اوزاروں کا کام دے رہے تھے، عملی طور پر منتشر ہو گئے اور اپنی تزویراتی پوزیشنوں سے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئے۔
جنوری 2026 کے واقعات کے دوران انہی ٹولوں کے ذریعے ایران میں اسلحہ بھیجنے کا، ٹرمپ کا واضح اعتراف اور جنگ کے منصوبے میں علیحدگی پسند کردوں کی شمولیت کے تئیں اس کی کھلی حمایت نے ان خطرات کی سرحد پار اور منصوبہ بند نوعیت کو مزید عیاں کر دیا۔ ان ڈھانچوں کی مؤثر تباہی سے میدانِ جنگ کی حقیقت میں واشنگٹن کا اثر و رسوخ اور اس کی طرف کے دباؤ کے اہم ترین ذرائع میں سے ایک بالکل ناکارہ ہو گیا۔
امریکی ڈیلٹا فورس کے اڈے پر ایرانی فضائیہ کا حملہ ـ اے آئی سیمولیشن
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بقلم: علی رضائی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ